مواد پر جائیں

مضامیناز Hydari4 منٹ کا مطالعہ

شیعہ کی برتری

كانَ اَميرُالمُؤمِنينَ عليه السلام يَقُولُ:

إنَّ أهْلَ الْجَنَّةِ يَنْظُرُونَ اِلى مَنازِلَ شيعَتِنا كَما يَنْظُرُ الاْءنْسانُ اِلَى الْكَواكِبِ.

امیرالمؤمنین علیہ السلام کا فرمان: اہلِ بہشت، ہماری شیعہ افراد کے درجات کو ایسے دیکھیں گے جیسے انسان آسمان پر روشن ستاروں کو دیکھتا ہے۔

شرح حدیث:

حضرت علی علیہ السلام کا فرمان اور اس کے اثرات ہمیں یہ سمجھنے میں مدد دیتے ہیں کہ شیعہ کی برتری نہ صرف دنیا میں ہے بلکہ آخرت میں بھی ان کا مقام بلند ہے۔ نوجوانوں کے لیے یہ ایک اہم پیغام ہے کہ وہ اپنے ایمان، اخلاق، اور علم کو مضبوط کریں تاکہ وہ نہ صرف اس دنیا میں کامیاب ہوں بلکہ اللہ کی رضا کے مطابق آخرت میں بھی اعلیٰ مقام حاصل کریں۔

شیعہ کی برتری کی وجہ چند اہم روحانی اور عملی اصولوں پر مبنی ہے، جو قرآن، حدیث، اور اہل بیت (علیہم السلام) کی تعلیمات سے جڑی ہوئی ہیں۔ شیعہ کی برتری کی بنیادی وجوہات درج ذیل ہیں:

1. اہل بیت (علیہم السلام) سے تعلق

شیعہ مسلمانوں کا ایمان ہے کہ حضرت علی (علیہ السلام) اور ان کے اہل بیت کا مقام اللہ کے نزدیک بہت بلند ہے۔ قرآن مجید میں اہل بیت کی پاکیزگی اور طہارت کا ذکر کیا گیا ہے، جیسے سورۃ الاحزاب (33:33) میں فرمایا:

"إِنَّمَا يُرِيدُ اللّه لِيُذْهِبَ عَنكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا"

اللہ تعالیٰ نے اہل بیت (علیہم السلام) کو ہر قسم کی آلودگی سے پاک کیا ہے اور یہ مقام شیعہ مسلمانوں کے لیے فخر کا باعث ہے۔

2. ایمان کی پختگی

شیعہ عقیدہ میں حضرت علی (علیہ السلام) کی ولایت اور امامت کا تصور مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔ حضرت علی (علیہ السلام) اور ان کے بعد آنے والے ائمہ (علیہم السلام) کو اللہ کی جانب سے منتخب اور ہدایت دینے والے رہنما سمجھا جاتا ہے۔ شیعہ مسلمانوں کا ایمان ہے کہ ائمہ (علیہم السلام) نہ صرف سیاسی رہنما تھے بلکہ روحانی رہنمائی اور ہدایت کا ذریعہ بھی تھے۔

3. عدلت اور سچائی کے پیروکار

شیعہ مسلمانوں کی برتری کی ایک اور وجہ ان کا عدلت اور سچائی کی پیروی کرنا ہے۔ حضرت علی (علیہ السلام) نے ہمیشہ عدل و انصاف کے ساتھ فیصلے کیے اور اپنی زندگی میں حق و صداقت کو اپنانا اپنی اولین ترجیح سمجھا۔ شیعہ مسلمان بھی ان کی تعلیمات پر عمل کرتے ہوئے اخلاقی اقدار اور سچائی کی بنیاد پر اپنی زندگی گزارنے کی کوشش کرتے ہیں۔

4. علم کا طلب گار ہونا

حضرت علی (علیہ السلام) نے علم کو سب سے بڑا سرمایہ قرار دیا اور فرمایا:

"علم دولت سے بہتر ہے کیونکہ علم آپ کو جہاں چاہے لے جائے گا، لیکن دولت آپ کو صرف اس کے پاس لے جا سکتی ہے جہاں وہ ہو"۔

شیعہ مسلمانوں کی برتری اس بات میں بھی ہے کہ وہ علم کو ایک اہم ستون سمجھتے ہیں، جس کی بنا پر وہ دین اور دنیا دونوں میں کامیابی حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

5. جنت کا بلند مقام

حضرت علی (علیہ السلام) اور ان کے شیعہ پیروکاروں کا جنت میں ایک بلند مقام ہوگا، جیسا کہ ایک حدیث میں آیا ہے:

"اہلِ جنت، ہماری شیعہ افراد کے درجات کو ایسے دیکھیں گے جیسے انسان آسمان پر روشن ستاروں کو دیکھتا ہے"۔

اس حدیث کے مطابق، شیعہ مسلمانوں کا مقام آخرت میں نہایت بلند ہوگا۔

6. اللہ کی رضا کا حصول

شیعہ کی برتری کا سب سے اہم سبب یہ ہے کہ ان کا ہر عمل اللہ کی رضا کے حصول کے لیے ہوتا ہے۔ حضرت علی (علیہ السلام) اور دیگر ائمہ (علیہم السلام) نے ہمیشہ اپنے تمام اعمال میں اللہ کی رضا کو اولیت دی۔ شیعہ مسلمان بھی اسی راستے پر چلنے کی کوشش کرتے ہیں، جس سے ان کا مقام اللہ کے نزدیک بلند ہوتا ہے۔

7. معاشرتی اصولوں کی پابندی

شیعہ مسلمانوں کی برتری اس میں بھی ہے کہ وہ اجتماعی طور پر اخلاقی اصولوں، برادری کے حقوق، اور انسانیت کی خدمت کے لیے کام کرتے ہیں۔ حضرت علی (علیہ السلام) نے اپنے دور میں ہمیشہ عوام کی خدمت کی اور معاشرتی عدل و انصاف کو فروغ دیا۔

نتیجہ:

شیعہ کی برتری نہ صرف اس بات میں ہے کہ وہ اہل بیت (علیہم السلام) کے پیروکار ہیں، بلکہ یہ ان کے ایمان، اخلاق، علم، سچائی، اور عدل کے اصولوں کی پیروی کرنے میں بھی ہے۔ ان کے تمام اعمال اللہ کی رضا کے حصول کے لیے ہوتے ہیں اور یہی ان کی برتری کا اصل سبب ہے۔

تبصرے دکھائیں

تبصرے

ابھی کوئی تبصرہ نہیں۔ پہلا تبصرہ آپ کریں۔

    تبصرے بند ہیں۔

    شیخ جواد حبیب کو اپنی ہوم اسکرین پر شامل کریں

    1. Safari کے ٹول بار میں Share بٹن پر ٹیپ کریں۔
    2. نیچے اسکرول کریں اور “Add to Home Screen” پر ٹیپ کریں۔
    3. “Add” پر ٹیپ کریں۔ اب شیخ جواد حبیب اپنے آئیکن سے کھلے گا۔