مواد پر جائیں

مضامیناز Hydari4 منٹ کا مطالعہ

اسلام میں مطلقہ عورت کے دوبارہ نکاح کا حق

قرآن مجید کی روشنی میں ایک معاشرتی اصلاح

اسلام ایک ایسا دین ہے جس نے انسانی معاشرے کو عدل، انصاف اور احترامِ انسانیت کا درس دیا ہے۔ خصوصاً عورت کے حقوق کے بارے میں اسلام نے وہ انقلابی تعلیمات پیش کیں جن کی مثال تاریخِ انسانی میں کم ہی ملتی ہے۔ انہی بنیادی حقوق میں سے ایک حق، مطلقہ عورت کے دوبارہ نکاح کا حق ہے، جسے قرآن کریم نے نہایت واضح انداز میں بیان فرمایا ہے۔

اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:

﴿وَإِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَبَلَغْنَ أَجَلَهُنَّ فَلَا تَعْضُلُوهُنَّ أَنْ يَنْكِحْنَ أَزْوَاجَهُنَّ إِذَا تَرَاضَوْا بَيْنَهُمْ بِالْمَعْرُوفِ ۚ ذَٰلِكَ يُوعَظُ بِهِ مَنْ كَانَ مِنْكُمْ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ ۗ ذَٰلِكُمْ أَزْكَىٰ لَكُمْ وَأَطْهَرُ ۗ وَاللَّهُ يَعْلَمُ وَأَنْتُمْ لَا تَعْلَمُونَ﴾

(سورۂ بقرہ: 232)

ترجمہ: "اور جب تم عورتوں کو طلاق دو اور وہ اپنی عدت پوری کر لیں تو انہیں اس بات سے نہ روکو کہ وہ اپنے سابق شوہروں سے دوبارہ نکاح کریں، جب وہ باہمی رضامندی اور معروف طریقے سے اس پر راضی ہوں۔ یہ نصیحت ان لوگوں کے لیے ہے جو اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتے ہیں۔ یہی تمہارے لیے زیادہ پاکیزہ اور باعثِ رشد ہے، اور اللہ جانتا ہے جبکہ تم نہیں جانتے۔"

اس آیت کا پس منظر یہ ہے کہ ایک صحابی حضرت معقل بن یسارؓ اپنی بہن کے سابق شوہر سے دوبارہ نکاح کی راہ میں رکاوٹ بن گئے تھے، حالانکہ دونوں میاں بیوی باہمی رضامندی سے نئی زندگی شروع کرنا چاہتے تھے۔ اس موقع پر یہ آیت نازل ہوئی اور واضح کر دیا گیا کہ کسی کو بھی محض ذاتی ضد، انا یا خاندانی تعصب کی بنیاد پر ایسے نکاح سے روکنے کا حق نہیں۔

شیعہ مفسر شیخ طبرسیؒ مجمع البیان میں لکھتے ہیں کہ اس آیت کا مقصد جاہلی رسم کا خاتمہ ہے، جس میں عورت کی مرضی کو کوئی حیثیت حاصل نہیں تھی اور اس کے اولیاء اس کی زندگی کے فیصلے اپنی خواہشات کے مطابق کرتے تھے۔ اسی طرح علامہ طباطبائیؒ المیزان میں فرماتے ہیں کہ نکاح کا اصل اختیار مرد اور عورت کی باہمی رضامندی پر قائم ہے، نہ کہ دوسروں کی خواہشات پر۔

اہلِ سنت کے مشہور مفسر امام قرطبیؒ بھی لکھتے ہیں کہ یہ آیت اس بات کی واضح دلیل ہے کہ اگر عورت اور مرد شرعی حدود کے اندر دوبارہ نکاح کرنا چاہیں تو کسی کو ان کے درمیان رکاوٹ بننے کا حق حاصل نہیں۔ امام فخر رازیؒ نے بھی اس حکم کو اسلام کی عدل پر مبنی معاشرتی تعلیمات کا اہم نمونہ قرار دیا ہے۔

رسول اکرم ﷺ نے فرمایا:

«الأَيِّمُ أَحَقُّ بِنَفْسِهَا مِنْ وَلِيِّهَا»

"بیوہ یا مطلقہ عورت اپنے نکاح کے بارے میں اپنے ولی سے زیادہ حق رکھتی ہے۔"

(صحیح مسلم)

اہلِ بیتؑ کی تعلیمات بھی اسی حقیقت کو بیان کرتی ہیں۔ امام جعفر صادقؑ سے روایت ہے:

«إِذَا رَضِيَ الرَّجُلُ وَالْمَرْأَةُ بِالنِّكَاحِ فَلَا يَنْبَغِي لِأَحَدٍ أَنْ يَمْنَعَهُمَا»

مفہوم: جب مرد اور عورت شرعی طریقے سے نکاح پر راضی ہوں تو کسی کو ان کے درمیان رکاوٹ نہیں بننا چاہیے۔

یہ آیت صرف ایک فقہی مسئلہ بیان نہیں کرتی بلکہ ایک عظیم معاشرتی اصول بھی پیش کرتی ہے۔ طلاق اگرچہ ایک ناپسندیدہ عمل ہے، لیکن کبھی حالات ایسے ہو جاتے ہیں کہ میاں بیوی علیحدہ ہو جاتے ہیں۔ بعد میں جب دونوں اپنی غلطیوں کا احساس کرتے ہیں اور دوبارہ گھر بسانا چاہتے ہیں تو اسلام انہیں اس کا موقع دیتا ہے۔ خاندان یا معاشرے کی ضد اور انا ان کی خوشیوں کی راہ میں رکاوٹ نہیں بننی چاہیے۔

قرآن مجید نے اس حکم کے آخر میں فرمایا:

﴿ذَٰلِكُمْ أَزْكَىٰ لَكُمْ وَأَطْهَرُ﴾

یعنی یہ طرزِ عمل تمہارے لیے زیادہ پاکیزہ اور باعثِ ترقی ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام کا مقصد صرف قانونی حکم دینا نہیں بلکہ خاندان کو ٹوٹنے سے بچانا، بچوں کے مستقبل کا تحفظ کرنا اور معاشرے میں پاکیزگی، محبت اور استحکام پیدا کرنا ہے۔

آج بھی بعض معاشروں میں مطلقہ عورت کو دوبارہ نکاح کی اجازت دینے کے بجائے خاندانی عزت، رسم و رواج یا جھوٹی انا کو ترجیح دی جاتی ہے۔ نتیجتاً بہت سی خواتین پوری زندگی تنہائی، نفسیاتی دباؤ اور معاشرتی مشکلات کا شکار رہتی ہیں، جبکہ اسلام نے انہیں باعزت زندگی گزارنے اور نئی شروعات کرنے کا مکمل حق دیا ہے۔

لہٰذا ہر مسلمان کی ذمہ داری ہے کہ وہ قرآن کے اس واضح حکم کو قبول کرے، جاہلی رسوم کو ترک کرے، عورت کے شرعی حقوق کا احترام کرے اور ایسے ہر عمل سے بچے جو کسی جائز نکاح میں رکاوٹ بنے۔ یہی حقیقی ایمان، خاندانی خوشحالی اور ایک پاکیزہ اسلامی معاشرے کی بنیاد ہے۔

The Right of a Divorced Woman to Remarry in Islam A Social Reform in the Light of the Holy Qur’an
The Right of a Divorced Woman to Remarry in Islam A Social Reform in the Light of the Holy Qur’an
تبصرے دکھائیں

تبصرے

ابھی کوئی تبصرہ نہیں۔ پہلا تبصرہ آپ کریں۔

    تبصرے بند ہیں۔

    شیخ جواد حبیب کو اپنی ہوم اسکرین پر شامل کریں

    1. Safari کے ٹول بار میں Share بٹن پر ٹیپ کریں۔
    2. نیچے اسکرول کریں اور “Add to Home Screen” پر ٹیپ کریں۔
    3. “Add” پر ٹیپ کریں۔ اب شیخ جواد حبیب اپنے آئیکن سے کھلے گا۔