دنیا کی فریب دہ زینت اور ایمان کی حقیقی وقعت

تحریر: — محمدجواد حبیب
زندگی کی اس دوڑتی بھاگتی دنیا میں انسان کا معیارِ کامیابی بدلتا جا رہا ہے۔ اب کردار، اخلاق اور روحانی بلندی نہیں، بلکہ ظاہری چمک دمک ہی سب کچھ شمار ہونے لگی ہے۔ ہمارے معاشرتی رویوں میں یہ تبدیلی کوئی نئی بات نہیں۔ قرآن نے صدیوں قبل انسان کی اسی کمزوری کی نشاندہی کی تھی۔ سورۂ بقرہ کی آیت 212 اسی حقیقت کو یوں بیان کرتی ہے:
زُيِّنَ لِلَّذِينَ كَفَرُوا الْحَيَاةُ الدُّنْيَا وَيَسْخَرُونَ مِنَ الَّذِينَ آمَنُوا ۘ وَالَّذِينَ اتَّقَوْا فَوْقَهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ۗ وَاللَّهُ يَرْزُقُ مَنْ يَشَاءُ بِغَيْرِ حِسَابٍ (البقرہ: 212)
یہ آیت صرف عرب کے اُن سرداروں کے لئے نہیں اتری تھی جو غریب مگر ایمان دار مسلمانوں کو حقیر سمجھتے تھے، بلکہ یہ ہر دور کے انسان کے لئے آئینہ ہے، خصوصاً اُس دور کے لیے جہاں دولت اور حیثیت کو انسان کی اصل وقعت پر ترجیح دی جاتی ہے۔
آج بھی ہمارے معاشرے میں یہی رویہ نمایاں ہے۔ ہم کسی انسان کے کردار کے بجائے اس کے لباس، گاڑی، مکان، برانڈ اور بینک بیلنس سے اس کی قیمت لگاتے ہیں۔ غریب مگر سچے انسان کو کم تر سمجھا جاتا ہے، جبکہ مال و منصب والے کو خود بخود “عزت والا” مان لیا جاتا ہے۔ یہی وہ ذہنیت ہے جسے قرآن نے “دنیا کی مزین فریب کاری” قرار دیا ہے۔
قرآن واضح کرتا ہے کہ دنیا کی چمک دمک کوئی دائمی حقیقت نہیں۔ یہ صرف امتحان ہے۔ جنہیں ایمان کی روشنی نصیب نہیں ہوتی وہ اسی فریب میں پھنس جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ ایمان والے، سچ بولنے والے اور سادگی اختیار کرنے والے لوگوں کا مذاق اڑاتے ہیں۔ مگر اللہ تعالیٰ کا فیصلہ کچھ اور ہے: ”اور جو لوگ تقویٰ والے ہیں وہ قیامت کے دن ان سے بلند ہوں گے“
دنیا کی عزتیں عارضی، مصنوعی اور بدلتی رہتی ہیں، مگر آخرت کے درجات ہمیشہ رہنے والے ہیں۔ وہاں بڑے وہ ہوں گے جو آج کے معاشرے میں چھوٹے سمجھے جاتے ہیں، اور چھوٹے وہ ہوں گے جو دنیا میں بڑے کہلاتے ہیں۔
آیت کا آخری حصہ: ”اور اللہ جسے چاہے بے حساب رزق دیتا ہے “
رزق کی ایک اہم حقیقت بیان کرتا ہے۔ اللہ کا رزق صرف ظاہری اسباب پر منحصر نہیں۔ اللہ بہتوں کو کم دے کر مطمئن رکھتا ہے، اور بہتوں کو زیادہ دے کر بے سکون کر دیتا ہے۔ یہ راز سمجھنے والا کبھی حسد اور مایوسی کا شکار نہیں ہوتا۔
آج کے دور کا سب سے اہم سبق یہی ہے کہ ہم ظاہری معیاروں کو ترک کریں۔ کسی شخص کے پاس کیا ہے، یہ نہیں دیکھیں؛ بلکہ وہ کیا ہے، اس کے اخلاق کیا ہیں، اس کا کردار کتنا صاف ہے—یہ دیکھیں۔ اس لئے کہ ایمان، صداقت، امانت، تقویٰ اور انسانیت وہ خوبیاں ہیں جو کسی بحران کی زد میں نہیں آتیں، نہ زمانے کے بدلنے سے کم ہوتی ہیں۔
اگر ہم اس ایک آیت کو سمجھ لیں، تو نہ ہم دوسروں کو حقیر جانیں گے، نہ خود دنیا کی چکاچوند میں کھوئیں گے۔ یہ آیت ہمیں یاد دلاتی ہے کہ دنیا چند لمحوں کی بات ہے؛ اصل عزت وہ ہے جو اللہ کے ہاں ملے، اور وہ عزت ایمان اور تقویٰ والوں کا مقدر ہے۔






تبصرے
ابھی کوئی تبصرہ نہیں۔ پہلا تبصرہ آپ کریں۔
تبصرے بند ہیں۔