مواد پر جائیں

مضامیناز Hydari5 منٹ کا مطالعہ

مقالہ: ہمارے دور میں بچوں کا قتل (عصرِ جاہلیتِ جدید)

آج کے معاشرتی مسائل میں سے ایک سنگین مسئلہ بچوں کا قتل ہے، خصوصاً جب یہ عمل اسقاطِ حمل کی صورت میں ہوتا ہے۔ اسقاطِ حمل کو عموماً غربت کے خوف کے تحت جائز قرار دیا جاتا ہے، اور یہ عمل اس گہری جاہلیت کو دوبارہ زندہ کرتا ہے جو اسلام سے پہلے کے دور میں تھی۔ ایک دور تھا جب لوگ اپنی بیٹیوں کو زندہ دفن کر دیتے تھے، لیکن موجودہ دور میں اس عمل کا نیا روپ اسقاطِ حمل کی صورت میں سامنے آیا ہے۔ اس مقالے میں ہم قرآن اور اہل بیت (علیہم السلام) کی تعلیمات کے ذریعے اس موضوع کی تفصیل سے وضاحت کریں گے۔

جاہلیت کے دور میں بچوں کا قتل

اسلام سے پہلے کے جاہلی عرب میں یہ رواج تھا کہ وہ اپنی بیٹیوں کو خوف کے تحت زندہ دفن کر دیتے تھے، تاکہ غربت اور سماجی رسوائی سے بچا جا سکے۔ قرآن مجید میں اس ظالمانہ عمل کا تذکرہ کیا گیا ہے، جیسا کہ سورۃ التکویر میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

"وَإِذَا الْمَوْءُودَةُ سُئِلَتْ، بِأَيِّ ذَنبٍ قُتِلَتْ"

(سورۃ التکویر، آیت 8-9)

"اور جب زندہ دفن کی جانے والی لڑکی سے پوچھا جائے گا کہ اسے کس گناہ کی وجہ سے مارا گیا۔"

یہ آیت اس بات کی یاددہانی ہے کہ اللہ کی رہنمائی کو نظر انداز کرنا اور زندگی کی تقدس کو فراموش کر دینا کتنی بڑی خطا ہے۔ آج بھی ہم دیکھتے ہیں کہ غربت اور دیگر مادی مشکلات کے خوف سے بچے اسقاطِ حمل کے ذریعے قتل کیے جا رہے ہیں، جسے معاشرتی دباؤ اور اقتصادی مشکلات کی بنا پر جائز قرار دیا جا رہا ہے۔ یہ جاہلیت کے دور کا وہی ظالمانہ فعل ہے، جو آج ایک نیا لباس اختیار کر کے سامنے آیا ہے۔

اللہ کی رزاقیت اور والدین کا اعتماد

قرآن مجید میں اللہ نے اس بات کی وضاحت کی ہے کہ رزق کی فراہمی صرف اللہ کے ہاتھ میں ہے، اور والدین کو خوف کی بنا پر اپنے بچوں کا قتل نہیں کرنا چاہیے۔ اللہ تعالی نے سورہ الانعام میں فرمایا:

"وَلَا تَقْتُلُوا أَوْلَادَكُمْ خَشْيَةَ إِمْلَاقٍ ۖ نَحْنُ نَرْزُقُهُمْ وَإِيَّاكُمْ ۚ إِنَّ قَتْلَهُمْ كَانَ خِطْئًا كَبِيرًا"

(الأنعام - 151)

"اور اپنی اولاد کو فقر کے خوف سے قتل نہ کرو۔ ہم تمہیں اور ان کو رزق دیتے ہیں۔ بے شک ان کا قتل ایک بڑا گناہ ہے۔"

یہ آیت ہمیں بتاتی ہے کہ رزق کا بڑھنا یا کم ہونا اللہ کی مشیت پر ہے، اور والدین کو اس خوف میں مبتلا ہونے کی ضرورت نہیں کہ وہ اپنے بچوں کو پالنے میں کامیاب نہیں ہوں گے۔ اس آیت سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ اسقاطِ حمل کے جواز میں غربت کو دلیل کے طور پر پیش کرنا ایک غلط سوچ ہے۔

امام علی (علیہ السلام) نے بھی اس موضوع پر بہت اہم باتیں کی ہیں۔ امام علی علیہ السلام کا فرمان ہے:

"جس شخص کو فقر کا خوف ہو، وہ خود کو اس کا غلام بنا لیتا ہے، لیکن جو شخص اللہ کی رزاقیت پر بھروسہ کرتا ہے، وہ کسی خوف سے آزاد ہوتا ہے۔"

یہ قول ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ اگر ہم اللہ کی مشیت پر اعتماد کریں، تو زندگی کے تمام مسائل حل ہو سکتے ہیں۔

زندگی کی تقدس اور اس کی حفاظت

اسلام میں زندگی کی ہر مرحلے پر بڑی تقدس کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے، اور یہ تقدس ہر انسان، خواہ وہ بالغ ہو یا جنین، پر لاگو ہوتا ہے۔ اسقاطِ حمل کی اجازت صرف اس صورت میں دی جاتی ہے جب ماں کی زندگی کو خطرہ لاحق ہو۔ امام جعفر صادق (علیہ السلام) نے اس بارے میں فرمایا:

"اپنے آپ کو یا دوسروں کو نقصان نہ پہنچاؤ، یہ اللہ کا حکم ہے۔ جو بچہ تمہاری کوکھ میں ہے، وہ اللہ کی امانت ہے، اور تمہیں اس کی زندگی ختم کرنے کا کوئی حق نہیں ہے، سوائے اس کے کہ ماں کی زندگی خطرے میں ہو۔"

اسلامی فقہ میں جنین کو ایک زندہ موجود سمجھا جاتا ہے اور اس کی زندگی کے حقوق تسلیم کیے جاتے ہیں۔ یہ خیال مسلمانوں کے مختلف فقہی مکاتب فکر میں تقریباً متفق ہے کہ اسقاطِ حمل صرف انتہائی ضروری حالات میں جائز ہے۔

روحانیت اور بچوں کی تربیت

اسلام میں بچوں کی تربیت کا مقصد نہ صرف ان کی مادی ضروریات کو پورا کرنا ہے، بلکہ ان کی روحانی ترقی اور اخلاقی تربیت بھی ضروری ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے والدین کو اپنے بچوں کی حفاظت کی ذمہ داری سونپی ہے، اور یہ ذمہ داری صرف مادی سطح پر نہیں، بلکہ روحانی سطح پر بھی ہے۔ سورہ التحریم میں اللہ کا ارشاد ہے:

"يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا قُوا أَنفُسَكُمْ وَأَهْلِيكُمْ نَارًا وَقُودُهَا النَّاسُ وَالْحِجَارَةُ"

(التحریم - 6)

"اے ایمان والو! اپنی جانوں اور اپنے اہل و عیال کو اس آگ سے بچاؤ جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہوں گے۔"

یہ آیت اس بات کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے کہ والدین نہ صرف اپنے بچوں کی جسمانی بلکہ روحانی حفاظت کا بھی فرض ادا کریں۔ اسقاطِ حمل، جو کہ اقتصادی مشکلات یا دیگر مادی خدشات کے تحت کیا جاتا ہے، ان روحانی اور اخلاقی ذمہ داریوں کو پورا کرنے میں رکاوٹ بنتا ہے۔

نتیجہ

مجموعی طور پر یہ بات واضح ہوتی ہے کہ اسقاطِ حمل کے ذریعے بچوں کا قتل، جو کہ فقر کے خوف کی بنیاد پر جواز پیش کیا جاتا ہے، اسلام سے قبل کی جاہلیت کا جدید روپ ہے۔ قرآن اور اہل بیت (علیہم السلام) کی تعلیمات ہمیں بتاتی ہیں کہ ہمیں اللہ کی رزاقیت پر اعتماد کرنا چاہیے اور زندگی کے ہر مرحلے کو اللہ کی امانت سمجھ کر اس کی حفاظت کرنی چاہیے۔ اسلام یہ سکھاتا ہے کہ بچے اللہ کی امانت ہیں اور والدین کا فرض ہے کہ وہ اپنے بچوں کی مناسب تربیت کریں، چاہے وہ کس بھی مشکل یا چیلنج کا سامنا کر رہے ہوں۔ آخرکار، اللہ کی حکمت پر ایمان اور اس کے رزق پر بھروسہ رکھنے سے ہم غربت کے خوف کو جیت سکتے ہیں اور زندگی کی حرمت کی حفاظت کر سکتے ہیں۔

تبصرے دکھائیں

تبصرے

ابھی کوئی تبصرہ نہیں۔ پہلا تبصرہ آپ کریں۔

    تبصرے بند ہیں۔

    شیخ جواد حبیب کو اپنی ہوم اسکرین پر شامل کریں

    1. Safari کے ٹول بار میں Share بٹن پر ٹیپ کریں۔
    2. نیچے اسکرول کریں اور “Add to Home Screen” پر ٹیپ کریں۔
    3. “Add” پر ٹیپ کریں۔ اب شیخ جواد حبیب اپنے آئیکن سے کھلے گا۔