پوسٹ پر واپس

شیخ جواد حبیب

حوالہ
P-00082
حصہ
مضامین
اشاعت
20 جولائی، 2026
طوالت
4 منٹ کا مطالعہ · 889 الفاظ

رضاعت: جدید سائنسی تحقیقات کی روشنی میں

اسلام نے آج سے چودہ سو سال قبل جس رضاعتی نظام کی تعلیم دی، جدید سائنس اور طب نے اس کی افادیت کو مسلسل تحقیق کے ذریعے ثابت کیا ہے۔ اگرچہ قرآنِ کریم نے دو سال تک رضاعت کی مدت مقرر کی، لیکن یہ بات قابلِ توجہ ہے کہ آج دنیا کے معتبر ترین طبی ادارے بھی اسی اصول کی تائید کرتے ہیں۔

عالمی ادارۂ صحت (WHO) اور یونیسف (UNICEF) کی مشترکہ سفارش ہے کہ ہر نومولود بچے کو زندگی کے پہلے چھ ماہ تک صرف ماں کا دودھ دیا جائے، اس کے بعد مناسب تکمیلی غذا کے ساتھ دو سال یا اس سے زیادہ عرصہ تک دودھ پلانا جاری رکھا جائے۔ یہ سفارش قرآنِ کریم کے اس ارشاد سے مکمل ہم آہنگ ہے:

﴿وَالْوَالِدَاتُ يُرْضِعْنَ أَوْلَادَهُنَّ حَوْلَيْنِ كَامِلَيْنِ﴾

"اور مائیں اپنے بچوں کو پورے دو سال دودھ پلائیں۔"

(سورۃ البقرۃ: 233)

جدید طبی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ ماں کا دودھ صرف غذا نہیں بلکہ ایک زندہ حیاتیاتی نعمت (Living Biological Fluid) ہے، جس میں قدرتی اینٹی باڈیز، مدافعتی خلیات، مفید جراثیم، انزائمز، ہارمونز، نشوونما میں مدد دینے والے عوامل اور حتیٰ کہ اسٹیم سیلز (Stem Cells) بھی موجود ہوتے ہیں۔ آج تک کوئی مصنوعی دودھ ان تمام خصوصیات کا مکمل متبادل فراہم نہیں کر سکا۔

متعدد طبی مطالعات سے یہ حقیقت سامنے آئی ہے کہ ماں کا دودھ پینے والے بچوں میں نمونیا، سانس کی نالی کے انفیکشن، اسہال، کان کے انفیکشن، دمہ، موٹاپا، ذیابیطس (ٹائپ 1 اور ٹائپ 2)، بچوں کے بعض سرطان (Leukemia) اور اچانک شیر خوار بچوں کی موت (Sudden Infant Death Syndrome - SIDS) کا خطرہ نمایاں طور پر کم ہو جاتا ہے۔

تحقیقات یہ بھی ظاہر کرتی ہیں کہ ماں کا دودھ پینے والے بچوں کی ذہنی نشوونما بہتر ہوتی ہے۔ مختلف طویل المدتی مطالعات میں یہ دیکھا گیا ہے کہ ایسے بچوں میں سیکھنے کی صلاحیت، یادداشت، تعلیمی کارکردگی اور بعض ذہنی صلاحیتوں (Cognitive Development) میں نسبتاً بہتر نتائج سامنے آئے ہیں۔

جدید اعصابی سائنس (Neuroscience) نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ رضاعت صرف جسمانی غذا نہیں بلکہ جذباتی تعلق کو مضبوط بنانے کا مؤثر ذریعہ بھی ہے۔ دودھ پلانے کے دوران ماں اور بچے دونوں کے جسم میں آکسی ٹوسن (Oxytocin) نامی ہارمون خارج ہوتا ہے، جسے "محبت اور وابستگی کا ہارمون" کہا جاتا ہے۔ یہ ہارمون ماں اور بچے کے درمیان اعتماد، محبت، ذہنی سکون اور جذباتی استحکام کو فروغ دیتا ہے، جبکہ ماں میں ذہنی دباؤ کو کم کرنے میں بھی مددگار ثابت ہوتا ہے۔

رضاعت کے فوائد صرف بچے تک محدود نہیں رہتے بلکہ ماں کی صحت پر بھی اس کے گہرے مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ جدید طبی تحقیق کے مطابق جو خواتین اپنے بچوں کو دودھ پلاتی ہیں، ان میں چھاتی کے سرطان (Breast Cancer)، بیضہ دانی کے سرطان (Ovarian Cancer)، ٹائپ 2 ذیابیطس، بلند فشارِ خون اور بعض قلبی امراض کا خطرہ نسبتاً کم ہو جاتا ہے۔ اس کے علاوہ رضاعت رحم کو جلد اپنی معمول کی حالت میں واپس لانے اور زچگی کے بعد خون بہنے کو کم کرنے میں بھی معاون ثابت ہوتی ہے۔

معاشی اعتبار سے بھی رضاعت ایک نہایت مؤثر نظام ہے۔ ماں کا دودھ بچوں میں بیماریوں اور ہسپتال میں داخلے کی شرح کو کم کرتا ہے، جس سے خاندانوں اور قومی صحت کے نظام پر مالی بوجھ کم ہوتا ہے۔ مزید برآں، مصنوعی دودھ کی تیاری، پیکنگ اور نقل و حمل سے پیدا ہونے والے ماحولیاتی اثرات بھی رضاعت کے قدرتی نظام میں موجود نہیں ہوتے، اس لیے یہ ماحول دوست (Eco-friendly) طریقہ بھی ہے۔

حالیہ برسوں میں سائنس دانوں نے ماں کے دودھ کی ایک اور حیرت انگیز خصوصیت دریافت کی ہے۔ اس میں ہیومن ملک اولیگوسیکرائیڈز (Human Milk Oligosaccharides - HMOs) نامی پیچیدہ قدرتی اجزاء پائے جاتے ہیں، جو براہِ راست بچے کی غذا نہیں بنتے بلکہ اس کی آنتوں میں موجود مفید بیکٹیریا کی نشوونما کرتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں بچے کا نظامِ ہاضمہ مضبوط ہوتا ہے، قوتِ مدافعت بہتر بنتی ہے اور مستقبل میں الرجی اور بعض خودکار (Autoimmune) بیماریوں کے امکانات کم ہو سکتے ہیں۔

مزید حیرت انگیز بات یہ ہے کہ تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ ماں کا دودھ ایک جامد مادہ نہیں بلکہ بچے کی عمر، ضرورت اور صحت کے مطابق اپنی ترکیب میں تبدیلی لاتا رہتا ہے۔ قبل از وقت پیدا ہونے والے بچوں کے لیے ماں کے دودھ کی ساخت مختلف ہوتی ہے، اور بعض مطالعات سے یہ بھی اشارہ ملا ہے کہ اگر بچہ بیمار ہو جائے تو ماں کے دودھ میں حفاظتی مدافعتی اجزاء کی مقدار بڑھ سکتی ہے۔

یہ تمام سائنسی حقائق قرآنِ کریم کی صداقت کو ثابت کرنے کے لیے نہیں، بلکہ یہ دکھانے کے لیے ہیں کہ وحیِ الٰہی کی تعلیمات اور انسانی فطرت کے درمیان گہری ہم آہنگی موجود ہے۔ قرآن نے رضاعت، والدین کی ذمہ داری، باہمی مشاورت اور بچوں کے حقوق کا جو متوازن نظام پیش کیا، جدید سائنس بھی آج اس کی حکمت اور افادیت کی تائید کر رہی ہے۔

آج جب دنیا خاندانی نظام کے مختلف بحرانوں سے گزر رہی ہے، اسلام کا رضاعتی تصور نہ صرف روحانی اور اخلاقی اعتبار سے بلکہ طبی، نفسیاتی، معاشی اور سماجی اعتبار سے بھی ایک جامع اور قابلِ عمل نمونہ پیش کرتا ہے۔ یہ تعلیمات ثابت کرتی ہیں کہ اسلام نے بچے کی جسمانی صحت، ذہنی نشوونما، جذباتی استحکام، ماں کی عزت، باپ کی ذمہ داری اور خاندان کی پائیداری کو ایک ہی مربوط نظام کے تحت محفوظ کیا ہے۔

Breastfeeding in the Light of Modern Scientific Research
Breastfeeding in the Light of Modern Scientific Research