پوسٹ پر واپس

شیخ جواد حبیب

حوالہ
P-00079
حصہ
مضامین
اشاعت
7 جنوری، 2026
طوالت
4 منٹ کا مطالعہ · 786 الفاظ

روح: سائنس، عقل اور وحی کی روشنی میں

زندگی کائنات کی سب سے بڑی حقیقت اور انسان کے لیے سب سے پیچیدہ سوال ہے۔ ہر زندہ مخلوق دو بنیادی اجزا پر مشتمل ہوتی ہے: جسمِ عضوی اور روح۔ جسم مادی، قابلِ مشاہدہ اور تجربہ گاہ میں قابلِ تحقیق ہے، جبکہ روح غیر مادی، غیر مرئی اور انسانی عقل و

سائنس کی مکمل گرفت سے ماورا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جدید دور میں روح کا مسئلہ سائنس اور مذہب کے درمیان ایک فکری بحث کی صورت اختیار کر چکا ہے۔

جسمِ عضوی اور سائنسی پیش رفت

سائنس نے انسانی جسم کے بارے میں حیرت انگیز ترقی کی ہے۔ جدید آلات اور طاقتور خوردبینوں کے ذریعے جسم کے خلیات، اعصابی نظام، دماغ اور دیگر اعضا کا باریک بینی سے مطالعہ کیا گیا ہے۔ آج سائنس جسمانی افعال کی بڑی حد تک وضاحت کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے، مگر اس کے باوجود وہ چند بنیادی سوالات کا جواب دینے سے قاصر ہے:

زندگی اور موت میں اصل فرق کیا ہے؟

موت کے فوراً بعد وہ کیا چیز جسم سے جدا ہو جاتی ہے جو اسے مکمل طور پر بے جان بنا دیتی ہے؟

وہی ایٹم اور مالیکیول جو انسانی جسم میں زندگی کا مظہر ہیں، دوسرے مادّوں میں کیوں بے جان رہتے ہیں؟

یہ سوالات اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ زندگی محض مادی اجزا کا مجموعہ نہیں، بلکہ اس کے پیچھے کوئی غیر مادی حقیقت موجود ہے جسے ہم روح کہتے ہیں۔

روح اور سائنسی حدود

روح چونکہ نظر نہیں آتی اور کسی سائنسی آلے سے ناپی نہیں جا سکتی، اس لیے بہت سے سائنس دان اس کے وجود کو سائنسی دائرۂ تحقیق سے خارج قرار دیتے ہیں۔ لیکن تاریخ گواہ ہے کہ بہت سی چیزیں ایک زمانے تک نظر نہ آنے کے باوجود موجود تھیں۔ بیکٹیریا اور وائرس اس کی واضح مثال ہیں، جنہیں خوردبین کی ایجاد سے پہلے کوئی نہیں جانتا تھا۔ اس لیے کسی چیز کا غیر مرئی ہونا اس کے عدمِ وجود کی دلیل نہیں بن سکتا۔

قرآنِ مجید اور روح کا تصور

اسلام روح کے مسئلے پر انسان کی علمی محدودیت کو واضح کرتا ہے۔ قرآنِ مجید میں ارشاد ہوتا ہے:

وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الرُّوحِ ۖ قُلِ الرُّوحُ مِنْ أَمْرِ رَبِّي وَمَا أُوتِيتُم مِّنَ الْعِلْمِ إِلَّا قَلِيلًا

(سورۃ الإسراء: 85)

یہ آیت واضح کرتی ہے کہ روح ایک الٰہی امر ہے اور انسان کو اس کے بارے میں بہت تھوڑا علم دیا گیا ہے۔ گویا روح کی حقیقت ایسی ہے جسے انسانی عقل مکمل طور پر سمجھ نہیں سکتی۔

روح اور موت کے بعد کی زندگی

اسلامی تعلیمات کے مطابق موت کے بعد روح فنا نہیں ہوتی بلکہ ایک نئی حالت میں داخل ہو جاتی ہے۔ غزوۂ بدر کے موقع پر نبی اکرم ﷺ کا شہداء و مقتولین سے خطاب اس کی روشن دلیل ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا:

"مَا أَنْتُمْ بِأَسْمَعَ لِمَا أَقُولُ مِنْهُمْ، وَلَكِنَّهُمْ لَا يَسْتَطِيعُونَ أَنْ يُجِيبُوا"

(صحیح بخاری)

یعنی تم ان سے زیادہ سننے والے نہیں ہو، مگر وہ جواب دینے کی طاقت نہیں رکھتے۔ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ روح جسم سے جدا ہونے کے باوجود شعور رکھتی ہے۔

روح، دماغ اور جسم کا تعلق

سائنس اس بات پر متفق ہے کہ جسم کے تمام اعضا دماغ کے احکامات کے تابع ہوتے ہیں، لیکن اسلامی فکر کے مطابق خود دماغ بھی روح کے زیرِ اثر کام کرتا ہے۔ اس تعلق کو یوں بیان کیا جا سکتا ہے:

روح → دماغ → جسم کے اعضا

امام غزالیؒ نے اس حقیقت کو نہایت بلیغ انداز میں بیان کیا کہ جسم روح کے لیے ویسا ہی ہے جیسے گھوڑا سوار کے لیے۔ اصل فیصلہ اور ذمہ داری سوار کی ہوتی ہے، گھوڑے کی نہیں۔

نیت، عمل اور روح کی جواب دہی

نبی اکرم ﷺ کا ارشاد ہے:

إِنَّمَا الأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ، وَإِنَّمَا لِكُلِّ امْرِئٍ مَا نَوَى

(صحیح بخاری، صحیح مسلم)

نیت کا تعلق روح سے ہے، جبکہ عمل جسم کے ذریعے ظاہر ہوتا ہے۔ قیامت کے دن جسم کے اعضا بھی روح کے خلاف گواہی دیں گے، جیسا کہ قرآن کہتا ہے:

الْيَوْمَ نَخْتِمُ عَلَىٰ أَفْوَاهِهِمْ وَتُكَلِّمُنَا أَيْدِيهِمْ وَتَشْهَدُ أَرْجُلُهُم بِمَا كَانُوا يَكْسِبُونَ

(سورۃ یٰس: 65)

اور فرمایا:

أَنطَقَنَا اللَّهُ الَّذِي أَنطَقَ كُلَّ شَيْءٍ

(سورۃ فصلت: 21)

یہ اس بات کی دلیل ہے کہ جسم محض ایک آلہ ہے، اصل ذمہ داری اور جواب دہی روح پر عائد ہوتی ہے۔

نتیجہ

یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح واضح ہے کہ سائنس اگرچہ جسم کے اسرار کو بڑی حد تک سمجھ چکی ہے، مگر روح کی حقیقت اس کی دسترس سے باہر ہے۔ روح کے بارے میں مستند اور یقینی علم صرف وحیِ الٰہی سے حاصل ہوتا ہے۔ اس لیے انسان، زندگی اور کائنات کو صحیح معنوں میں سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ وہ سائنس کے ساتھ ساتھ قرآن و سنت کی رہنمائی کو بھی قبول کرے۔ روح ہی زندگی کی اصل حقیقت اور انسانی اعمال کی بنیاد ہے۔

what is a soul?