وباء الرشوة اور ہندوستانی معاشرہ

تحریر محمد جواد حبیب
۱- مقدمہ
رشوت ایک قدیم سماجی بیماری ہے جو آج بھی دنیا کے اکثر ممالک، خصوصاً برصغیر میں، معاشرتی انصاف کے راستے کی سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ ہندوستان جیسے کثیر آبادی اور جمہوری ملک میں جہاں قانون عوام کے حقوق کی حفاظت کے لیے بنایا گیا ہے، وہاں رشوت کی لعنت کمزور طبقے کو بے بس اور مظلوم بنادیتی ہے۔ طاقتور طبقہ اپنی دولت و اثر و رسوخ کے بل بوتے پر قوانین کو اپنے حق میں موڑ لیتا ہے، جبکہ غریب شہری عدالتوں اور دفاتر کے دروازوں پر سالہا سال دھکے کھاتے رہتے ہیں۔
۲- قرآن کی روشنی میں
اسلام نے رشوت کو عدل و انصاف کے لیے زہرِ قاتل قرار دیا ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
﴿وَلَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ وَتُدْلُوا بِهَا إِلَى الْحُكَّامِ لِتَأْكُلُوا فَرِيقًا مِّنْ أَمْوَالِ النَّاسِ بِالْإِثْمِ وَأَنتُمْ تَعْلَمُونَ﴾ (البقرة: 188)
"اور آپس میں ایک دوسرے کا مال ناحق مت کھاؤ، اور نہ ہی اسے حکام کے پاس پہنچاؤ تاکہ لوگوں کے مال کا کچھ حصہ گناہ کے ساتھ کھا جاؤ حالانکہ تم جانتے ہو۔"
یہ آیت براہِ راست رشوت اور ناانصافی کے نظام کی مذمت کرتی ہے، اور واضح کرتی ہے کہ رشوت کے ذریعے دوسروں کے حقوق چھیننا ظلمِ عظیم ہے۔
۳- سیرتِ علیؑ اور رشوت کی مذمت
ہندوستان جیسے کثیر المذاہب معاشرے میں عدل کی سب سے بڑی مثال حضرت علیؑ کی زندگی ہے۔ تاریخ میں ملتا ہے کہ الأشعث بن قيس نے آپؑ کو رشوت دینے کے لیے "ہدیہ" کے نام پر میٹھا بھیجا۔ اس پر امام علیؑ نے سخت جواب دیا:
«هَبَلَتْكَ الهُبُول، أَعَنْ دِينِ الله أَتَيْتَنِي لِتَخْدَعَنِي؟ وَاللهِ لَوْ أُعْطِيتُ الأقالِيمَ السَّبْعَةَ بِمَا تَحْتَ أَفْلاكِها عَلَى أَنْ أَعْصِيَ اللهَ فِي نَمْلَةٍ أَسْلُبُها جُلْبَ شَعِيرَةٍ ما فَعَلْتُهُ»
"اے اشعث! کیا تم دینِ خدا کے بارے میں مجھے دھوکہ دینا چاہتے ہو؟ خدا کی قسم! اگر مجھے ساتوں اقلیم ان کے تمام اثاثوں کے ساتھ دے دیے جائیں اس شرط پر کہ میں اللہ کی نافرمانی کروں اور ایک چیونٹی سے جو کا چھلکا چھین لوں، تو میں یہ بھی نہیں کروں گا۔"
یہ موقف آج کے ہندوستانی معاشرے کے لیے بہت بڑی رہنمائی ہے، جہاں عوامی نمائندوں اور سرکاری اہلکاروں کو رشوت کے خلاف اس جذبے کو اپنانے کی ضرورت ہے۔
۴- احادیثِ نبویؐ
رسول اللہ ﷺ نے رشوت کو واضح الفاظ میں لعنت قرار دیا ہے۔ آپؐ نے فرمایا:
«لَعَنَ اللهُ الرَّاشِي وَالمُرْتَشِي وَالمَاشِي بَيْنَهُمَا»
"اللہ کی لعنت ہے رشوت دینے والے پر، لینے والے پر اور ان دونوں کے درمیان دلالی کرنے والے پر۔" (ترمذی، کتاب الأحکام)
ایک اور موقع پر ایک عامل (سرکاری افسر) نے تحفہ قبول کیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
«كَيْفَ تَأْخُذُ مَا لَيْسَ لَكَ بِحَقّ؟ … أَرَأَيْتَ لَوْ قَعَدَ أَحَدُكُمْ فِي دَارِهِ وَلَمْ نُوَلِّهِ عَمَلاً أَكَانَ النَّاسُ يُهْدُونَ إِلَيْهِ شَيْئاً؟!»
"تم وہ چیز کس حق سے لیتے ہو جو تمہاری نہیں؟ … بتاؤ، اگر تم اپنے گھروں میں بیٹھے رہتے اور ہم تمہیں کوئی عہدہ نہ دیتے تو کیا لوگ تمہیں تحفے دیتے؟" (صحیح البخاری)
یہ تعلیمات ہندوستانی بیوروکریسی اور سیاست دانوں کے لیے براہِ راست تنبیہ ہیں کہ عوامی خدمت کے عوض کسی بھی نام سے تحفہ یا رقم لینا رشوت ہے۔
۵- امام صادقؑ کا فرمان
ائمہ اہل بیتؑ نے بھی رشوت کی سنگینی کو بیان کیا ہے۔ امام جعفر صادقؑ فرماتے ہیں:
«وَأَمَّا الرِّشا فِي الحُكْمِ فَهُوَ الكُفْرُ بِاللهِ العَظِيم»
"اور جو رشوت فیصلے میں دی جائے وہ در حقیقت اللہ عظیم کے ساتھ کفر ہے۔" (وسائل الشيعة)
یہ روایت اس بات کو اجاگر کرتی ہے کہ رشوت صرف ایک سماجی جرم نہیں بلکہ ایک عقیدتی اور ایمانی جرم بھی ہے، جو ہندوستانی مسلمان معاشرے میں خاص طور پر غور طلب ہے۔
۶- نتیجہ اور ہندوستانی تناظر
ہندوستان میں رشوت ایک عام وباء کی شکل اختیار کرچکی ہے۔ سرکاری دفاتر، عدالتوں، پولیس اسٹیشنوں اور حتیٰ کہ تعلیمی اداروں تک اس کا اثر دیکھا جاسکتا ہے۔ اسلام کی واضح تعلیمات یہ ہیں کہ رشوت معاشرتی انصاف کو ختم اور کمزور طبقات کو مزید کمزور کرتی ہے۔ اگر مسلمان اور دیگر انصاف پسند شہری ان تعلیمات پر عمل کریں تو ہندوستانی سماج میں حقیقی عدل قائم ہوسکتا ہے۔ رشوت کے خلاف جہاد صرف دینی ذمہ داری نہیں بلکہ ایک قومی و اخلاقی فریضہ ہے۔


