پوسٹ پر واپس

شیخ جواد حبیب

حوالہ
P-00051
حصہ
تقریبات
اشاعت
18 مارچ، 2025
طوالت
4 منٹ کا مطالعہ · 762 الفاظ

اخلاقی، علمی و فکری نشست: آل لداخ اسٹوڈنٹس ویلفیئر ایسوسی ایشن چندیگڑھ (ALSWAC) کی شاندار علمی تقریب

تحریر: جواد حبیب / 18 مارچ 2025

16 مارچ 2025 کو آل لداخ اسٹوڈنٹس ویلفیئر ایسوسی ایشن چندیگڑھ (ALSWAC) کے زیر اہتمام اسلامک سینٹر، موہالی، چندیگڑھ میں ایک شاندار اخلاقی، علمی و فکری نشست کا انعقاد کیا گیا۔ یہ بامقصد اجتماع شام 5 بجے سے 8 بجے تک جاری رہا، جس میں معزز علما، دانشوران، اساتذہ اور بڑی تعداد میں طلبہ و طالبات نے شرکت کی۔ اس نشست نے نوجوانوں کی فکری و علمی نشوونما کے لیے قیمتی رہنمائی اور نصیحتیں فراہم کیں۔

یہ محفل علم، حکمت، روحانیت اور اخلاقیات کا حسین امتزاج تھی، جس نے حاضرین خصوصاً نوجوانوں کو فکری و روحانی روشنی عطا کی۔ اس تقریب میں حجت الاسلام والمسلمین آقای مہدوی پور (نمایندہ ولی فقیہ در ہند)، حجت الاسلام والمسلمین سید تقی حیدر نقوی، حجت الاسلام والمسلمین شیخ جواد حبیب، مولانا سید ضیاء عباس اور دیگر ممتاز شخصیات شریک ہوئیں۔

اس نشست کے نظامت کے فرائض جناب ڈاکٹر سلطان نے نہایت شایستگی اور خوش اسلوبی کے ساتھ انجام دیے، اور موضوعات کے تسلسل کو برقرار رکھتے ہوئے تقریب کو بامقصد اور دلنشین بنایا۔

استقبال اور اظہارِ تشکر

تقریب کا آغاز یونین کے صدر جناب ادریس کے پرجوش استقبالیہ خطاب سے ہوا۔ انہوں نے تمام معزز مہمانانِ گرامی کا والہانہ خیرمقدم کیا اور ایسی علمی و فکری محافل کے انعقاد کو نوجوانوں کی فکری و اخلاقی تربیت کے لیے ناگزیر قرار دیا۔

بعد ازاں، ڈاکٹر طہٰ نے طلبہ کی جانب سے اپنے جذبات کا اظہار کیا اور حجت الاسلام والمسلمین آقای مہدوی پور کی سرپرستی اور رہنمائی کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ انہوں نے کہا:

“ہمیں اپنے محبوب رہبرِ انقلاب اسلامی سے وابستگی کو مزید مضبوط کرنا چاہیے اور دینی و علمی میدان میں انتھک کوشش کرنی چاہیے۔”

حجت الاسلام والمسلمین آقای مہدوی پور کی بصیرت افروز گفتگو

تقریب کے مہمانِ خصوصی حجت الاسلام والمسلمین آقای مہدوی پور نے اپنی تقریر کا آغاز پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ایک گرانقدر وصیت سے کیا اور نوجوانوں کو علم، اخلاق، معنویت اور جوانی کی قدردانی کی تلقین کی۔

انہوں نے فرمایا:

“لداخ ایک بلند و بالا خطہ ہے اور یہاں کے لوگ بھی بلند فکر کے مالک ہیں۔ یہ سرزمین زرخیز ہے اور اس کے نوجوانوں میں بےپناہ صلاحیتیں پوشیدہ ہیں۔ میں آپ سب کو اپنی اولاد سمجھتا ہوں اور امید رکھتا ہوں کہ آپ اپنے علم و تقویٰ کے ذریعے معاشرتی تبدیلی کا ذریعہ بنیں گے۔”

انہوں نے مزید کہا کہ نوجوانوں کو چاہیے کہ وہ دینی اور دنیاوی تعلیم میں توازن قائم کریں اور اپنے کردار و عمل سے دوسروں کے لیے عملی نمونہ بنیں۔

شیخ جواد حبیب کا خطاب: علمی و دینی تربیت کی ضرورت

حجت الاسلام والمسلمین شیخ جواد حبیب نے مختصر مگر جامع خطاب کیا، جس میں انہوں نے گزشتہ آٹھ برسوں میں انجام دی گئی علمی و تربیتی خدمات کا ذکر کیا اور نمایندہ ولی فقیہ کی سرپرستی پر ان کا شکریہ ادا کیا۔

انہوں نے کہا:

“ہمیں اس علمی اور دینی ماحول کو مزید فروغ دینا چاہیے تاکہ ہمارے نوجوان نہ صرف اپنی ذات کی تعمیر کریں بلکہ معاشرے میں بھی فکری و روحانی استحکام کا ذریعہ بنیں۔”

طالبات کے ساتھ خصوصی نشست: “اسلام میں خواتین کا مقام”

نمازِ مغربین کے بعد حجت الاسلام والمسلمین آقای مہدوی پور نے طالبات کے ساتھ ایک خصوصی نشست منعقد کی، جس میں 80 سے زائد یونیورسٹی طالبات شریک ہوئیں۔ اس نشست میں اسلام میں خواتین کی حیثیت اور انقلابِ اسلامی سے قبل و بعد ایرانی خواتین کی علمی و سماجی ترقی پر روشنی ڈالی گئی۔

انہوں نے فرمایا:

“آج ایران میں خواتین کی تعداد جامعات میں مردوں سے 5 فیصد زیادہ ہے۔ وہ اسلامی اقدار کے ساتھ علمی، فکری، سماجی، سیاسی اور دینی میدانوں میں بھرپور شرکت کر رہی ہیں۔ میں آپ سب سے گزارش کرتا ہوں کہ اپنی تعلیم پر بھرپور توجہ دیں، کسی ایک میدان میں مہارت حاصل کریں اور اپنے شعبے میں ماہر بنیں۔”

مزید کہا:

“طالبات کو چاہیے کہ اسلامی اصولوں کی پاسداری کرتے ہوئے اپنی علمی و ذہنی صلاحیتوں کو بروئے کار لائیں اور روشن مستقبل کے لیے مسلسل جدوجہد کریں۔”

اختتامیہ اور دعائیہ کلمات

نشست کے اختتام پر صدرِ مجلس نے ایک بار پھر حجت الاسلام والمسلمین آقای مہدوی پور اور دیگر معزز مہمانان کا شکریہ ادا کیا۔ طلبہ و طالبات نے بھی اپنے روحانی مربی کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا اور ان کی صحت و سلامتی کے لیے دعا کی۔

یہ علمی و فکری نشست محبت، اتحاد، علم اور حکمت کی ایک بہترین مثال ثابت ہوئی، جس نے نوجوانوں کے دلوں میں معرفت و بصیرت کے نئے چراغ روشن کیے اور انہیں دین و علم کے راستے پر استقامت کے ساتھ گامزن ہونے کی ترغیب دی۔