Written by: Muhammad Jawad Habib

There are moments in history that do far more than mark time; they shape human consciousness and leave a lasting imprint on our moral imagination. The night of the Prophet’s migration—known as Laylat al-Mabīt—is one such moment. Qur’an 2:207 points directly to this extraordinary act:
“And among the people are those who sell their lives in pursuit of God’s pleasure—and God is ever compassionate to His servants.”
This verse was not revealed for mere recitation. Behind it stands a character, a decision, and a remarkable act of courage.
The Night When a Decision Became History
Historical accounts describe that warm Meccan night as a decisive point for the Prophet Muhammad ﷺ. Outside his home stood armed men waiting to strike; inside, preparations were underway for one of the most significant migrations in human history. At that moment, the Prophet ﷺ asked Ali ibn Abi Talib (a.s.) to lie on his bed—a bed surrounded by swords, and a doorway shadowed by death.
Ali (a.s.) simply asked, “O Messenger of God, if I sleep in your place, will you be safe?”
The Prophet’s answer was yes.
That was enough. The decision was made.
On that night, a young man set the price of his life—and the price was only one thing: the pleasure of God.
Why This Story Matters Today
We live in a time when people are not willing to sacrifice their own lives—many are ready to bargain away the lives of others. Principles rarely survive the pressure of self-interest, and personal gain often outweighs the collective good.
In such an age, Laylat al-Mabīt becomes a mirror. It forces us to confront a simple truth:
- Sacrifice is not a religious slogan—it is the measure of character.
- Leadership is not a position—it is responsibility.
- Greatness belongs to those who do not fear difficult decisions.
By lying on the Prophet’s bed, Ali (a.s.) demonstrated that true character is forged in danger, not in comfort.

The Crisis of Leadership and the Qur’anic Standard
We often complain that our leaders are weak, our society directionless, and our youth without real role models.
But the real question is: Do we uphold the standard of leadership the Qur’an sets?
The Qur’an’s message is clear:
“The one capable of great sacrifice is the truly great human being.”
That standard still stands today.
What has changed is not the principle—only our memory of it.
A Question for Our Time
Every person faces a moment when a choice must be made:
Will we preserve our own comfort,
or risk something for the sake of someone else?
The message of Laylat al-Mabīt is simple yet profound:
Life is shaped by decisions—and the greatest decisions are made when the self is placed last.
The verse says:
“And God is compassionate to His servants.”
Indeed—
but that compassion often manifests through those who possess the courage to hold themselves accountable for the good of others.

Final Thoughts
Times have changed, but principles have not.
Sincere leadership, moral integrity, and selfless sacrifice remain as essential today as they were fourteen centuries ago.
The Qur’an still asks the same question:
Is there anyone among you who has the courage to “sell his life”—only for the pleasure of God?

جو اپنی جان بیچ دیتا ہے…
تحریر محمد جواد حبیب
دنیا میں چند واقعات ایسے ہوتے ہیں جو تاریخ پر صرف ایک نشان نہیں چھوڑتے بلکہ انسان کے فکر و شعور پر دائمی اثرات مرتب کرتے ہیں۔ ہجرتِ نبوی کی وہ رات—جسے ہم “لیلۃ المبیت” کے نام سے جانتے ہیں—ایسا ہی ایک واقعہ ہے۔ قرآن کی آیت 207 میں اسی عمل کی طرف اشارہ ہے:
“اور کچھ لوگ ایسے ہیں جو اللہ کی رضا کی خاطر اپنی جان بیچ دیتے ہیں، اور اللہ بندوں پر بہت مہربان ہے۔”
یہ آیت صرف تلاوت کے لیے نہیں اُتری تھی۔ اس کے پیچھے ایک کردار، ایک فیصلہ، اور ایک غیر معمولی ہمت چھپی ہوئی ہے۔
وہ رات… جب فیصلہ تاریخ بنا
روایات بتاتی ہیں کہ مکہ کی وہ گرم رات نبی اکرم ﷺ کے لیے فیصلہ کن تھی۔ گھر کے باہر مشرکین کا پہرہ تھا اور اندر مستقبل کی سب سے بڑی ہجرت سامنے کھڑی تھی۔ ایسے میں رسول اللہ ﷺ نے حضرت علیؑ سے کہا کہ وہ ان کے بستر پر لیٹ جائیں۔ ایسا بستر جس کے گرد تلواریں چمک رہی تھیں، اور موت دروازے پر کھڑی تھی۔
حضرت علیؑ نے سنا اور کہا: “یا رسول اللہ، اگر میں آپ کے بستر پر لیٹ جاؤں تو آپ محفوظ رہیں گے؟”
بس اتنی بات کافی تھی۔ جواب ”ہاں“ تھا، اور علیؑ کا فیصلہ بھی وہیں طے ہو گیا۔
اس رات ایک جوان نے اپنی جان کی قیمت لگا دی—اور قیمت تھی صرف “اللہ کی رضا”۔
آج ہمیں یہ واقعہ کیوں یاد رکھنا چاہیے؟
ہم ایک ایسے دور میں جی رہے ہیں جہاں لوگ اپنی جان نہیں، دوسروں کی جان تک بیچ دینے کے لیے تیار رہتے ہیں۔ یہاں حق اور اصول زیادہ دیر سانس نہیں لے پاتے، اور ذاتی مفاد اجتماعی بھلائی پر غالب آ جاتا ہے۔
ایسے ماحول میں لیلۃ المبیت کا واقعہ ایک آئینہ ہے جو ہمیں بتاتا ہے کہ:
• قربانی محض مذہبی زبان کا لفظ نہیں—یہ عملی کردار کا نام ہے۔
• قیادت مقام نہیں ذمہ داری ہے۔
• وہی لوگ بڑے بنتے ہیں جو مشکل فیصلوں سے نہیں گھبراتے۔
حضرت علیؑ نے بسترِ رسول پر لیٹ کر یہ واضح کر دیا کہ کردار خطرے سے بنتا ہے، آرام سے نہیں۔
قیادت کا بحران اور قرآن کا معیار
ہم شکایت کرتے ہیں کہ آج قیادت کمزور ہے، معاشرہ بے سمت ہے، اور نوجوانوں کے سامنے کوئی عملی نمونہ نہیں۔
سوال یہ ہے کہ کیا ہم قیادت کو وہ معیار دیتے ہیں جو قرآن بتاتا ہے؟
قرآن کہتا ہے:
“وہ شخص جو بڑی قربانی دے سکتا ہو، وہی بڑا انسان ہے۔”
یہ معیار آج بھی زندہ ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ ہم اسے بھول چکے ہیں۔
آخر میں ایک سوال
ہر انسان کے سامنے کبھی نہ کبھی ایسی گھڑی آتی ہے جب اسے فیصلہ کرنا ہوتا ہے—
کہ وہ اپنی جگہ محفوظ رکھے یا کسی اور کی حفاظت کے لیے خطرہ مول لے۔
لیلۃ المبیت کا پیغام یہ ہے کہ زندگی فیصلہوں سے بنتی ہے، اور بڑے فیصلے ہمیشہ اپنے آپ کو پیچھے رکھتے ہوئے کیے جاتے ہیں۔
آیت کہتی ہے:
“اور اللہ بندوں پر مہربان ہے”
ہاں، لیکن وہ مہربانی ان لوگوں کے ذریعے ظاہر ہوتی ہے جو انسانیت کے خیر کے لیے اپنی ذات کا محاسبہ کرنے کی ہمت رکھتے ہیں۔
حرفِ آخر
وقت بدل گیا ہے، مگر اصول نہیں بدلے۔
مخلص قیادت، ایمانی کردار اور بے لوث قربانی—آج بھی وہی اہمیت رکھتے ہیں جو چودہ سو سال پہلے رکھتے تھے۔
قرآن آج بھی وہی سوال پوچھ رہا ہے:
کیا تم میں کوئی ہے جو “اپنی جان بیچنے” کی ہمت رکھتا ہو… صرف اللہ کی رضا کے لیے؟
قربانی، ذمہ داری اور قیادت
آیتِ “یَشْرِي نَفْسَهُ” (البقرہ 207): ایک تاریخی، تفسیری اور عصری مطالعہ
خلاصہ
یہ مقالہ سورۃ البقرہ کی آیت 207—﴿وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَشْرِي نَفْسَهُ ابْتِغَاءَ مَرْضَاتِ اللهِ﴾—کا تحقیقی مطالعہ پیش کرتا ہے، جس میں اس آیت کے اسبابِ نزول، تاریخی شواہد، تفسیری مباحث، اخلاقی و سماجی مضمرات اور معاصر دنیا میں اس کے نظری و عملی اطلاقات کا جائزہ لیا گیا ہے۔
مقالہ اس بات کا دفاع کرتا ہے کہ لیلۃ المبیت کا واقعہ، جو کہ حضرت علی بن ابی طالبؑ سے منسوب ہے، تاریخی، روایتاتی اور تفسیری اعتبار سے ایک بڑے درجے کی صحت رکھتا ہے۔
ساتھ ہی یہ بھی ثابت کیا گیا ہے کہ آیت کا پیغام ایک تاریخی واقعے تک محدود نہیں بلکہ ایک وسیع اخلاقی اصول کی عکاسی کرتا ہے، جو آج کے انسانی، سماجی اور قیادتی ماحول میں قابلِ اطلاق ہے۔
1. مقدمہ
قرآن کریم کی آیت 207 اُن اخلاقی نمونوں میں سے ہے جن میں انسانی رویے کے بلند ترین مراتب کا بیان ملتا ہے۔ قرآن یہاں ایک ایسے فرد کی نشاندہی کرتا ہے جو رضائے الٰہی کے حصول کی خاطر اپنی جان تک قربان کرنے کے لیے آمادہ ہے۔
ذاتی منفعت سے بالاتر اس اقدام نے اسلامی روایت میں ایک نمایاں مقام پیدا کیا۔ اس آیت کی اہمیت اس وقت بڑھ جاتی ہے جب اسے نبی اکرم ﷺ کی ہجرت اور حضرت علیؑ کے تاریخی کردار کے تناظر میں دیکھا جائے۔
2. متنِ آیت اور مفہوم
﴿وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَشْرِي نَفْسَهُ ابْتِغَاءَ مَرْضَاتِ اللَّهِ ۗ وَاللَّهُ رَءُوفٌ بِالْعِبَادِ﴾
اور لوگوں میں کچھ ایسے بھی ہیں جو اللہ کی رضا کی طلب میں اپنی جان پیش کر دیتے ہیں، اور اللہ بندوں پر نہایت مہربان ہے۔
اصطلاح “یَشْرِي” یہاں تجارت اور معاملے کے استعارے میں استعمال ہوئی ہے، جو قرآن کے بیان میں ایک خاص بلاغی گہرائی رکھتی ہے۔
3. سببِ نزول کا تاریخی تجزیہ
اہلِ حدیث، مفسرین اور مؤرخین کی ایک بڑی تعداد کے مطابق یہ آیت ہجرتِ نبوی کی رات اس عمل سے متعلق ہے جب حضرت علیؑ نبی اکرم ﷺ کے بستر پر سوئے تاکہ مشرکین کو دھوکا ہو اور رسول اللہ ﷺ محفوظ طریقے سے نکل جائیں۔
اہم کتب جو اس واقعے کو بیان کرتی ہیں:
• مسند احمد بن حنبل
• سیرت ابن ہشام
• تاریخ طبری
• تذکرة الخواص ۔ سبط ابن الجوزی
• شرح نہج البلاغہ ۔ ابن ابی الحدید
• نزهة المجالس
• احیاء العلوم ۔ غزالی
یہ وسعتِ مصادر اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ واقعہ محض ایک محدود یا فرقہ وارانہ بیان نہیں بلکہ سیرتی اور تاریخی لٹریچر کے بڑے حصے میں تسلسل رکھتا ہے۔
ابو جعفر اسکافی کے مطابق حدیثِ لیلۃ المبیت تواتر معنوی کے درجے تک پہنچتی ہے، جو کہ ایک اعلیٰ سطح کی تاریخی مطمئنیت فراہم کرتا ہے۔
4. مفہومی و تہذیبی تجزیہ
اس آیت میں کیا کس چیز کی اور کس قیمت میں تجارت ہوئی اور خریدنے اور بیچنے والا کون:
• انسان = فروخت کنندہ
• عمل = متاع
• اللہ = خریدار
• قیمت = رضائے الٰہی
یہ بیان اخلاقی بلند مرتبہ اور نیت کی صداقت کو ایک معاشی استعارے کے ذریعے بیان کرتا ہے، جو قرآن کی بلاغت کا اہم پہلو ہے۔
(من) کی تبعیض
(ومن الناس)میں (من) تبعیض کے لیے ہے، جو اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ اس نوعیت کی قربانی عام انسانی رویہ نہیں بلکہ غیر معمولی اخلاقی سطح رکھنے والے افراد ہی اسے انجام دیتے ہیں۔
رؤوف بالعباد — ایک سماجی مفہوم
مفسرین اس جملے کو اس حقیقت سے جوڑتے ہیں کہ ایسے ایثار پیشہ افراد کا وجود خود انسانی معاشرے کے لیے الٰہی مہربانی کا ایک نمونہ ہے، کیونکہ انہی کی بدولت سماجی اخلاقیات کا توازن قائم رہتا ہے۔
5. معاصر دنیا میں اطلاقات
• اخلاقی ذمہ داری اور اجتماعی شعور
آیت جدید سماجی اخلاقیات کے مطابق یہ اصول فراہم کرتی ہے کہ:
• معاشروں کی بقا محض قانونی ڈھانچے سے نہیں بلکہ ایسے افراد سے ممکن ہوتی ہے جو اپنی ذات سے آگے سوچتے ہیں۔
یہ تصور جدید اخلاقی فلسفے میں Altruistic Responsibility کے قریب ہے۔
• قیادت کے معیارات
حضرت علیؑ کا عمل اس بات کی عملی مثال ہے کہ:
• قیادت خطرے سے گریز نہیں کرتی
• بوقتِ ضرورت ذاتی مفاد کو اجتماعی مفاد پر قربان کرتی ہے
• مشکل فیصلے لیتے ہوئے اصولی استقامت دکھاتی ہے
یہ اصول آج سیاسی، سماجی اور شہری قیادت کے لیے رہنما اصولوں کی حیثیت رکھتے ہیں۔
• مذہبی و روحانی عملیت
معاصر مادی پس منظر میں یہ آیت اس نکتہ کو دوبارہ معتبر کرتی ہے کہ:
• ایمان محض دعوے کا نہیں بلکہ عمل کا نام ہے
• مقصد کی صداقت انسان کے کردار سے ثابت ہوتی ہے، نہ کہ زبان سے
6. نتیجہ
آیت 207 کا مطالعہ ظاہر کرتا ہے کہ یہ صرف ایک تاریخی واقعہ کی طرف اشارہ نہیں کرتی بلکہ ایک عمومی اخلاقی و سماجی اصول پیش کرتی ہے۔ لیلۃ المبیت کا واقعہ اس اصول کا نمایاں اور تاریخی مصداق ہے۔
معاصر انسان کے لیے یہ آیت اخلاقی قیادت، اجتماعی ذمہ داری، اور عمل پر مبنی روحانی شعور کی تشکیل میں بنیادی کردار ادا کر سکتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ یہ آیت اسلامی فکر، سماجی اخلاقیات اور قیادت کے معاصر مباحث میں ایک اہم حوالہ بننے کی صلاحیت رکھتی ہے۔